سلطان محمود غزنوی اور سچائی کا امتحان

ایک دن سلطان محمود غزنوی اپنے دربار میں بیٹھے تھے کہ ایک غریب آدمی آیا۔
اس نے کہا: “سلطان! میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ ایک امیر شخص نے میرا گھوڑا چھین لیا ہے۔”
سلطان نے فوراً اس امیر آدمی کو بلایا۔
وہ آیا تو بڑے اعتماد سے بولا: “یہ جھوٹ بول رہا ہے، گھوڑا میرا ہے۔”
کوئی گواہ نہیں تھا…
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
سلطان نے کچھ دیر سوچا، پھر دونوں کو اپنے ساتھ اصطبل (stables) میں لے گئے جہاں بہت سے گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔
سلطان نے کہا: “اگر گھوڑا تمہارا ہے، تو تم اسے پہچان لو گے۔”
امیر آدمی فوراً ایک گھوڑے کی طرف گیا اور بولا: “یہ میرا ہے!”
پھر غریب آدمی آگے بڑھا… اس نے کچھ نہیں کہا، بس ایک گھوڑے کے قریب جا کر آہستہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
گھوڑا فوراً اس کے ساتھ لپٹ گیا… جیسے اسے پہچانتا ہو۔
سلطان مسکرائے۔
پھر امیر آدمی کی طرف دیکھ کر کہا: “جھوٹ بولنے والا مالک نہیں بن سکتا… اصل پہچان تو جانور بھی کر لیتا ہے۔”
اور گھوڑا غریب آدمی کو واپس دے دیا گیا۔
📌 سبق: سچ چھپایا نہیں جا سکتا، وہ کسی نہ کسی طرح ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔
اگر تم چاہو تو اگلی کہانی:
زیادہ dangerous twist والی 😈
یا عورت + انصاف والی
یا حیران کر دینے والا انجام
بس بتاؤ، اگلی اور کتنی heavy بناؤں 😏

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
WhatsApp Follow our WhatsApp Channel
Scroll to Top
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x