میں 27 سال کی ڈاکٹر ہوں — اور آج طلاق یافتہ ہوں۔

میں 27 سال کی ڈاکٹر ہوں — اور آج طلاق یافتہ ہوں۔

شادی سے پہلے میری ایک سرجری ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے تسلی دی تھی کہ سب ٹھیک ہے، ماں بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ میں نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو بتایا اور اس نے کہا کوئی بات نہیں۔

لیکن ڈیڑھ سال بعد پتہ چلا کہ سرجری کے بعد کچھ پیچیدگیاں آ گئی ہیں اور ماں بننے کے لیے IVF کرانی ہوگی۔

یہ خبر سنتے ہی اس کے منہ سے پہلا جملہ نکلا — مجھے دوسری شادی کی اجازت دو۔

میں نے کہا میں خود IVF کا خرچ اٹھاؤں گی۔ اس نے پھر وہی بات دہرائی۔ میں نے کہا ہم مل کر اس مشکل کا سامنا کریں گے۔ اس نے پھر وہی جواب دیا۔

اس نے میری بیماری کی تمام تفصیل اپنے گھر والوں کو بتا دی اور ساتھ یہ جھوٹ بھی کہ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ میرے گھر والوں نے بات کرنے کی کوشش کی، وہ نہیں مانا۔ مجھے میرے گھر چھوڑ دیا گیا۔

چھ مہینے تک کوئی رابطہ نہیں۔

پھر ایک دن فون آیا — چار سال انتظار کر سکتا ہوں لیکن تمہارے ماں باپ سے بات نہیں کروں گا اور لینے بھی نہیں آؤں گا، خود آنا ہو تو آؤ۔

میں نے کہا پہلے مجھے مالی تحفظ دو۔ اس نے پھر دوسری شادی کی اجازت مانگی۔

چار مہینے اور گزر گئے۔ کوئی کوشش نہیں، کوئی قدم نہیں۔

اور پھر گیارہ مہینے بعد طلاق نامہ آ گیا۔

شادی کے پہلے دن سے بچے کا دباؤ تھا۔ کبھی ایک نرم لفظ نہیں ملا، کبھی حوصلہ نہیں ملا۔ اتنی بڑی خبر کے بعد بھی کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں تھا۔

اور آخر میں اس نے کہا — تم خودغرض ہو، تم نے میرا حق نہیں مانا۔

آج بھی میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ کیا میں واقعی غلط تھی؟ کیا یہ محبت تھی یا صرف ایک سودا جس میں میں ناکام ثابت ہوئی؟

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
WhatsApp Follow our WhatsApp Channel
Scroll to Top
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x