QAZI OR SUCH BOLNY WALA BACHA

ایک شہر میں ایک امیر آدمی نے ایک غریب پر الزام لگا کہ اس نے اس کا سونا چرا لیا ہے۔دونوں معاملہ لے کر قاضی کے پاس پہنچے۔امیر آدمی بڑے اعتماد سے بولا: “میں نے اپنی آنکھوں سے اسے چوری کرتے دیکھا ہے!”غریب آدمی کانپتی آواز میں کہنے لگا: “میں نے کچھ نہیں لیا… میں بے گناہ ہوں۔”کوئی گواہ نہیں تھا…نہ کوئی ثبوت۔قاضی کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اس نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔اس نے کہا: “کل تم دونوں اپنے اپنے کسی ایک عزیز کو ساتھ لے کر آنا۔”اگلے دن امیر آدمی اپنے بڑے بھائی کو لے آیا…اور غریب آدمی ایک چھوٹے بچے کو ساتھ لایا—اپنا بیٹا۔دربار میں سب حیران تھے کہ یہ بچہ کیا کرے گا۔قاضی نے بچے کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے پوچھا:”بیٹا، اگر تمہارے ابو نے سونا چوری کیا ہوتا… تو کیا وہ تمہیں سچ بتاتے؟”بچہ معصومیت سے بولا: “نہیں… میرے ابو کبھی جھوٹ نہیں بولتے، وہ مجھے ڈانٹتے ہیں اگر میں جھوٹ بولوں۔”پھر قاضی نے امیر آدمی کے بھائی سے پوچھا: “اگر تمہارا بھائی چوری کرے… تو کیا تم سچ بتاؤ گے؟”وہ گھبرا گیا… “میں… میں اپنے بھائی کے خلاف کیسے بول سکتا ہوں؟”قاضی مسکرایا…اور کہا: “سچائی رشتوں سے نہیں ڈرتی… لیکن جھوٹ ہمیشہ کسی کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔”پھر اس نے فیصلہ سنایا:”غریب آدمی بے گناہ ہے۔”امیر آدمی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا…اور آخرکار اس نے اپنا جھوٹ مان لیا۔📌 سبق: سچ کو ثابت کرنے کے لیے بڑی دلیل نہیں، سچی نیت کافی ہوتی ہے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
WhatsApp Follow our WhatsApp Channel
Scroll to Top
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x