ایک اندھی عورت دربار میں آئی اور روتے ہوئے کہنے لگی:
“بادشاہ سلامت! ایک آدمی نے میرے زیور چرا لیے ہیں… میں اسے پہچان نہیں سکتی، مگر اس کی آواز یاد ہے۔”
بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ شہر کے مشتبہ لوگوں کو پیش کیا جائے۔
کچھ ہی دیر میں کئی آدمی دربار میں کھڑے تھے۔
بادشاہ نے سب کو ایک قطار میں کھڑا کیا اور اندھی عورت سے کہا: “تم ہر ایک کے قریب جا کر اس کی آواز سنو۔”
عورت ایک ایک کے پاس گئی…
سب اپنی آواز بدل بدل کر بات کر رہے تھے۔
کوئی بھی پہچانا نہ جا سکا۔
دربار میں چپ چھا گئی۔
سب کو لگا کہ اب چور نہیں پکڑا جائے گا۔
لیکن بادشاہ نے اچانک حکم دیا:
“تمام لوگوں کو ایک ایک کر کے اس عورت کے سامنے سے گزرا جائے… اور سب خاموش رہیں۔”
سب حیران ہو گئے کہ آواز کے بغیر کیسے پہچان ہوگی؟
جب لوگ اس کے سامنے سے گزرنے لگے، تو ایک آدمی کے قریب آتے ہی عورت اچانک چیخ پڑی:
“یہی ہے! یہی چور ہے!”
سب حیران رہ گئے۔
بادشاہ نے پوچھا: “تم نے اسے کیسے پہچانا؟ تم تو دیکھ نہیں سکتیں۔”
عورت نے کہا:
“جب یہ میرے قریب سے گزرا… اس کی سانس تیز ہو گئی… اور مجھے وہی گھبراہٹ محسوس ہوئی جو اس رات تھی۔”
چور کے چہرے کا رنگ اڑ گیا…
اور وہ فوراً اپنے جرم کا اقرار کر بیٹھا۔
بادشاہ نے کہا:
“انسان اپنی آواز چھپا سکتا ہے… مگر اپنا خوف نہیں۔”
اور یوں اندھی عورت کو انصاف مل گیا۔
📌 سبق: سچ کو چھپانے کی جتنی بھی کوشش کرو، وہ کسی نہ کسی طرح ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest